نئی دہلی،22 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) عدلیہ کے حالیہ بحران پراپنے پہلا تبصرہ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ حکومت اور سیاسی پارٹیوں کو ضرور اس سے دوررہناچاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ عدلیہ اپنے مسائل کا حل نکالنے کے لیے ایک ساتھ بیٹھے گی اور اتفاق رائے سے اس ضمن میں کوئی نہ کو ئی مثبت حل نکال لیا جائے گا ۔ واضح ہوکہ ان دنوں سپریم کورٹ کے چارسنیئرججوں کی پریس کانفرنس سے سرکارکی مداخلت کی کوششوں کے الزامات لگ رہے ہیں اوربی جے پی اسے سپریم کورٹ کااندرونی معاملہ بتاکردامن بچانے کی کوشش کررہی ہے۔مودی نے یہ بھی کہا کہ بھارتی عدلیہ کی ایک تاریخ رہی ہے اور یہاں تمام لوگ با صلاحیت اور فہیم ہیں ۔انہوں نے نیوز چینل ٹائمس ناؤ کو دیئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے ملک کی عدلیہ کا ماضی قابلِ رشک رہا ہے ۔ وہاں بہت ہی قابل افرادموجود ہیں وہ ایک ساتھ مل کر باہمی اتفاقِ رائے اس بحران کا کوئی نہ کوئی مثبت حل نکال لیں گے ۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ عدالتی نظام پرمیراایمان ہے وہ یقینی طور پرکوئی نہ کوئی مثبت حل ڈھونڈ نکالیں گے ۔ چیف جسٹس کی جانب ہائی پرو فائل کیسز کے الاٹمنٹ اور تقسم پر عدالتِ عظمیٰ کے چار سینئر ججوں کی طرف سے عوامی طور پر میڈیا کے سامنے آکر عدالت میں پیدا بحران کے انکشاف کے متعلق پوچھے جانے پر مودی نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ مجھے اس بحث سے دور رہنا چاہئے۔ حکومت کو بھی اس سے ضرور دور رہنا چاہئے، سیاسی جماعتوں کو بھی اس سے ضرور دور رہنا چاہئے۔مودی نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ انہیں او ران کی پارٹی کو اپوزیشن کی طرف سے زمینی سطح سے اکھاڑ پھینکنے کی پوری کوشش کی گئی تھی ؛ لیکن ان کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی اور وہ ملک کے سب سے باوقار عہدہ یعنی وزارت عظمیٰ کی رونق ہیں ۔ غور طلب ہے کہ 12 جنوری کو سب سے اوپر کورٹ کے چار اعلی ججوں نے پریس کانفرنس کے ذریعہ عدلیہ کے اندر ’سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں‘ کا انکشاف کیا تھا ۔ جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے چاروں ججوں کی شدید تنقید بھی کی تھی۔